من پسند شخص میں کلونجی جیسی طاقت ہوتی ہے

 


من پسند شخص ایک زنده کلونجی کی مانند ہوتا ہے. روح کی گہرائیوں میں چھپے ہر زخم کو چھو کر شفا بخشتا ہے دل کے اندھیروں کو روشنی میں بدل دیتا ہے، اور خاموشیوں کے بوجھ کو ہلکے پرندوں کی طرح اُڑا دیتا ہے۔ اس کی موجودگی میں دنیا کی تلخیاں میٹھا سا خواب لگتی ہیں

اس کی ہنسی خزاں کے موسم میں بہار کی خوشبو کی مانند محسوس ہوتی ہے، اور اس کی توجہ دل کے سب سے گہرے خلا کو بھر دیتی ہے۔ لیکن جیسے کلونجی موت کے سوا ہر مرض کا علاج ہے. ویسے ہی یہ شخص ہر دکھ کا مرہم ہوتا ہے سوائے اس درد کے جو اس کی بے رخی سے پیدا ہوتا ہے۔ جب وہ خاموشی اختیار کرے نظر انداز کرے یا لاپرواہی دکھائے تو دل میں ایک خاموش آتش لگتی ہے، جو نہ وقت کے ساتھ مدھم ہوتی ہے اور نہ یادوں میں گھل جاتی ہے۔ محبت کی یہ تلخ حقیقت ہے

جو سب سے زیادہ شفا بخشتا ہے، وہی سب سے زیادہ زہر بھی بن سکتا ہے، اور جو دل کو مکمل کرتا ہے، وہی دل کو ٹکڑوں میں بانٹ دیتا ہے۔ من پسند شخص کی طاقت صرف خوشیوں میں نہیں، بلکہ اُس کی غیر موجودگی خاموشی اور بے رخی کے اثر میں بھی چھپی ہے. ایک آئینے کی طرح جو ہمیں ہمارا اصل چہرہ دکھاتی ہے اور سکھاتی ہے کہ محبت صرف دی جانے والی چیز نہیں، بلکہ سمجھنے اور سنبھالنے کی طاقت بھی ہے۔

No comments:

Post a Comment

please do not enter any spam link in the comment box...