نماز میں جس التفات ( ادھر اُدھر دیکھنے) سے منع کیا گیا ہے وہ دو طرح کا ہے :
1 ۔ حضور قلب کا نہ ہونا ، دل کا اللہ مالک الملک کے علاوہ کسی اور کی طرف متوجہ ہونا
2 ۔ نظروں سے اِدھر اُدھر دیکھنا ، ان دونوں سے منع کیا گیا ہے
اور اُس شخص کی مثال جو اپنی نماز میں التفات نظر و قلب کا ارتکاب کرتا ہے ، اس شخص کی سی ہے ، جسے بادشاہ نے بلایا ، وہ اُس کے سامنے کھڑا اس سے مخاطب ہے اور ساتھ ساتھ دائیں بائیں بھی دیکھ رہا ہے ، اسے معلوم ہی نہیں وہ اسے کیا کہہ رہا ہے کیونکہ اس کا دل اس کے ساتھ حاضر نہیں ہے ، کیا خیال ہے بادشاہ اس شخص کے ساتھ کیا سلوک کرے گا ، کم از کم یہی کہ اسے دھتکار دے اور نکال باہر کرے کیونکہ وہ اُس کی نظروں سے گِر چکا ہے ۔
الالتفات المنهي عنه في الصلاة قسمان :
أحدهما : التفات القلب عن الله عز وجل إلى غير الله تعالى .
والثاني : التفات البصر ، وكلاهما منهي عنه .
و مثل من يلتفت في صلاته ببصره أو بقلبه ، مثل رجل استدعاه السلطان ، فأوقفه بين يديه ، وأقبل يناديه ويخاطبه ، وهو في خلال ذلك يلتفت عن السلطان يميناً وشمالاً ، وقد انصرف قلبه عن السلطان ، فلا يفهم ما يخاطبه به ، لأن قلبه ليس حاضراً معه ، فما ظن هذا الرجل أن يفعل به السلطان ، أفليس أقل المراتب في حقه أن ينصرف من بين يديه ممقوتاً مبعداً قد سقط من عينيه .
ابن القيم رحمه الله -الوابل الصيب
مشکوۃ شریف ۔ جلد اول ۔ نماز کا بیان ۔ حدیث 948
نماز میں ادھر ادھر دیکھنا کیسا ہے
وَعَنْ عَائِشَۃَ رضی اللہ عنہاقَالَتْ سَاَلْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم عَنِ الْاِلْتِفَاتِ فِی الصَّلٰوۃِ فَقَالَ ھُوَ اخْتِلَاسٌ ےَّخْتَلِسُہُ الشَّيطٰنُ مِنْ صَلٰوۃِ الْعَبْدِ۔
(صحیح البخاری و صحیح مسلم)
" اور سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نماز میں ادھر ادھر دیکھنے کے بارے میں پوچھا کہ آیا یہ مفسد نماز ہے یا نہیں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ اچک لینا ہے کہ شیطان بندے کی نماز میں سے اچک لیتا ہے۔" (صحیح البخاری و صحیح مسلم)
تشریح :
مطلب یہ ہے کہ جب کوئی آدمی نماز میں پوری توجہ اور پورے آداب کی ساتھ نہیں کھڑا رہتا بلکہ ادھر ادھر دیکھتا ہے تو شیطان مردود ایسے نمازی کی نماز کے کمال کو اچک لیتا ہے یعنی اس طرح نماز کا کمال باقی نہیں رہتا ۔
کن انکھیوں سے ادھر ادھر دیکھنے سے نہ تو نماز فاسد ہوتی ہے اور نہ مکروہ ہوتی ہے البتہ یہ بھی خلاف اولیٰ ہے۔
No comments:
Post a Comment
please do not enter any spam link in the comment box...